گوگل نے اپنے جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس ویڈیو ایڈیٹنگ ٹول “ویڈز” (Vids) کو اب تمام صارفین کے لیے کھول دیا ہے۔ اس سے پہلے یہ ٹول صرف گوگل ورک اسپیس یا مخصوص AI سبسکرائبرز کے لیے محدود تھا۔
اب عام صارفین بھی اس AI ویڈیو ایڈیٹر کو استعمال کر سکتے ہیں، جس میں مختلف ٹیمپلیٹس، اسٹاک میڈیا، اور بنیادی AI فیچرز شامل ہیں۔ یہ ٹول خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہے جو آسانی سے پریزنٹیشنز یا مختصر ویڈیوز بنانا چاہتے ہیں۔
ویڈز کو سب سے پہلے 2024 میں گوگل ورک اسپیس کے صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ صارفین کو ایک اسٹوری بورڈ بنانے میں مدد دیتا ہے جس میں AI کی مدد سے سینز، اسٹاک تصاویر اور بیک گراؤنڈ میوزک کی تجاویز دی جاتی ہیں۔
اب اس کا بنیادی (بیسک) ورژن سب کے لیے دستیاب ہے، تاہم اس میں کچھ جدید AI فیچرز دستیاب نہیں ہوں گے — مثلاً آپ اپنی شخصیت پر مبنی AI اواتار (avatar) تخلیق نہیں کر سکیں گے۔
البتہ صارفین ویڈز میں پہلے سے موجود 12 اواتارز میں سے کسی ایک کا انتخاب کر کے اپنا اسکرپٹ شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ٹول صارفین کو 8 سیکنڈ کی ویڈیو کسی مخصوص تصویر کی بنیاد پر تیار کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
اگر ویڈیو کو پریزنٹیشن کا حصہ بنانا ہو، تو AI کی مدد سے “فِلر الفاظ” (جیسے ام، آہ، وغیرہ) کو بھی ہٹایا جا سکتا ہے تاکہ پریزنٹیشن زیادہ پروفیشنل محسوس ہو۔
فی الحال، گوگل نے واضح کیا ہے کہ ویڈز میں ذاتی نوعیت کے AI اواتار بنانے کی سہولت عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہے۔
گوگل کا AI ویڈیو ایڈیٹر ویڈز اب سب کے لیے دستیاب








