بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارت میں مادھپور ہیڈورکس کی تباہی نے پاکستان میں راوی کو بے قابو کر دیا

لاہور (نیوز ڈیسک) بھارت کے دریائے راوی پر قائم مادھوپور ہیڈ ورکس کی اچانک خرابی کے باعث پاکستان کے زیریں علاقوں، خصوصاً لاہور میں شدید اور مسلسل سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ انگریزی اخبار میں شائع منور حسن کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے نہ تو پاکستان کو بروقت آگاہ کیا اور نہ ہی ہیڈ ورکس کے تکنیکی مسئلے پر حکام کو اطلاع دی۔

رپورٹس کے مطابق ہیڈ ورکس کے چار فلڈ گیٹس اچانک ناکام ہوگئے جس کے نتیجے میں درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے اور وسیع زرعی رقبہ ڈوب گیا۔ کئی دہائیوں سے غفلت کے باعث 54 فلڈ گیٹس کی جدید اپ گریڈیشن نہ ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔


لاہور میں دریائے راوی کے پانی کی مقدار شاہدرہ کے مقام پر 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی، جس سے ہزاروں افراد بے گھر اور کھیت کھلیان تباہ ہوگئے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق جمعرات کی شب غیر معمولی بلند سطح کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحران بھارت کے مادھوپور ہیڈ ورکس سے قابو سے باہر پانی کے اخراج کا نتیجہ ہے جس نے لاہور کے رہائشیوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

بھارتی مقامی حکام نے بھی اس صورتحال کو “انتہائی غفلت” قرار دیا اور کہا کہ ہر سال کروڑوں روپے دیکھ بھال پر خرچ ہونے کے باوجود مرمت تاخیر کا شکار ہے۔ موجودہ وقت میں 55 ہزار کیوسک پانی پاکستان میں داخل ہو رہا ہے جبکہ مرمت صرف پانی اترنے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔


ماہرین کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ بروقت سیلابی ڈیٹا کا تبادلہ کریں تاکہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ اس بحران نے ایک بار پھر معاہدے پر سختی سے عملدرآمد اور موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ مزید بارشوں کی پیشگوئی کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان فوری مذاکرات ناگزیر ہیں۔