اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم چین کے شہر تیانجن میں ایک ساتھ موجود ہیں۔ مئی میں پاک بھارت جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں رہنما ایک ہی شہر میں شریک ہیں۔
مبصرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے استقبال میں واضح فرق دیکھا گیا۔ شہباز شریف کا استقبال ریڈ کارپٹ پر ہوا اور چینی اعلیٰ حکام نے انہیں ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہا۔ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
اس کے برعکس بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا خیرمقدم روایتی اور نسبتاً سادہ انداز میں کیا گیا، جس پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بھی تنقید کی۔
چینی سوشل میڈیا پر شہباز شریف کے استقبال کو گرمجوش قرار دیا گیا۔ پاکستانی صارفین نے کہا کہ چینی جہازوں کے ذریعے بھارتی رافیل طیارے گرانے والے ملک کے وزیراعظم کا ایسا ہی پرتپاک استقبال ہونا چاہیے تھا۔
ایک صارف کے مطابق، شہباز شریف کا ریڈ کارپٹ استقبال چھ گنا بڑے ملک بھارت کو شکست دینے کی سفارتی جھلک ہے۔

مودی نے تیانجن میں وزیراعظم پاکستان، ترکیہ، آذربائیجان اور چین کے صدور کے ہمراہ کھانے میں شرکت کی۔ بھارتی سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ وہی ممالک ہیں جو پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے۔









