بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارت کی خارجہ و دفاعی پالیسیوں میں تضاد، سیاسی مفادات کے لیے دوہرا معیار بے نقاب

بھارت کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں پائے جانے والے تضادات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ برسوں تک چین کے خلاف سخت بیانات دینے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، اب بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر چین کی تعریفوں کے پل باندھنے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جب مودی اپوزیشن میں تھے تو چین کے حوالے سے ان کا لب و لہجہ خاصا جارحانہ ہوتا تھا۔ ایک موقع پر انہوں نے انتخابی جلسے میں کہا تھا، “جو چین میرے دیس کے جوانوں کے سر کاٹ لے، کیا اس کے ساتھ پروٹوکول ہونا چاہیے؟” لیکن آج وہی مودی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔
دوسری طرف حالیہ دنوں میں بھارتی فوجی قیادت، خصوصاً ڈپٹی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ، چین کے خلاف سنگین الزامات لگا چکی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں آپریشن سندور میں بھارتی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ چین نے پاکستان کو انٹیلی جنس اور تکنیکی معاونت فراہم کی، جس کی بدولت پاکستان کو برتری حاصل ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین “اُدھار کی چھری سے وار” کی پالیسی کے تحت پاکستان کی مدد کرتا رہا۔
تاہم انہی فوجی الزامات کے برعکس، وزیراعظم مودی بین الاقوامی فورمز پر چین سے تعاون اور دوستی کے بیانات دے رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں ان کی شرکت اور چین کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی خواہش بھارت کی متضاد حکمتِ عملی کو نمایاں کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارتی حکومت اندرونی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے چین کے معاملے پر عوام کو گمراہ کرتی رہی ہے۔ بیانات اور پالیسیوں میں اس دوہرے معیار نے اب واضح کر دیا ہے کہ بھارت کی قیادت نظریاتی نہیں بلکہ وقتی اور مفاداتی فیصلوں کو ترجیح دیتی ہے۔