بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 انڈونیشیا میں عوامی آواز سنی گئی، صدر نے پارلیمانی مراعات کم کرنے کا اعلان  

انڈونیشیا میں عوامی دباؤ رنگ لے آیا، شدید احتجاج کے بعد حکومت نے اراکینِ پارلیمنٹ کی مراعات میں کمی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، جسے سیاسی تجزیہ کار عوامی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتونے ایک اہم پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے اراکینِ پارلیمنٹ کی غیر ضروری مراعات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں غیر ملکی دوروں پر پابندی جیسا اہم اقدام بھی شامل ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں شہریوں نے اراکین پارلیمنٹ کی شاہانہ مراعات کے خلاف بھرپور احتجاج شروع کر رکھا تھا۔ مظاہروں کا آغاز پیر کے روز ہوا، لیکن جمعرات کو پولیس کی کارروائی میں ایک شہری کی ہلاکت کے بعد احتجاج شدت اختیار کر گیا۔
صدر پرابوو نے صدارتی محل میں سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مراعات یافتہ نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ تاہم، عوامی احتجاج کی آڑ میں کسی کو بھی تشدد یا لوٹ مار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پولیس اور فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں، گھروں میں لوٹ مار کرنے والوں، اور معیشت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
صدر پرابوو نے کچھ کارروائیوں کو ’’دہشتگردی‘‘ اور ’’غداری‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ریاست ایسے عناصر سے سختی سے نمٹے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ احتجاج صدر پرابوو سوبیانتو کی حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ وہ اکتوبر 2024 میں اقتدار میں آئے تھے، اور ان کے لیے یہ واقعہ عوامی جذبات کے ادراک اور حکومتی فیصلوں میں شفافیت کا اہم امتحان ثابت ہوا۔