تیانجن ( نیوزڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) باہمی اعتماد اور مشترکہ مفاد کے اصولوں کے تحت آگے بڑھ رہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
چینی شہر تیانجن میں جاری ایس سی او سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارت، معیشت اور دیگر شعبوں میں تعاون کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی شراکت دار ممالک کے ساتھ تجارت 2.3 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ چین رکن ممالک کو 10 ارب یوآن قرض فراہم کرے گا۔
چینی صدر نے ایس سی او ترقیاتی بینک کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے تجارتی اور مواصلاتی روابط بڑھانا ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔
واضح رہے کہ ایس سی او کا یہ دو روزہ اجلاس بیس ممالک کے سربراہان کی شرکت سے جاری ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی شریک ہیں، جو پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے اور خطے میں تعاون و استحکام کے فروغ سے متعلق تجاویز دیں گے۔









