وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تباہی، پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں اور غیر سنجیدہ سیاسی رویوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھی سیلاب آتا ہے، ہم فوراً اقوامِ متحدہ اور دنیا سے مدد مانگنے لگتے ہیں، لیکن کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے کہ اس حال کو ہم خود لائے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے حلقے سے دو دریا گزرتے ہیں، لیکن وہاں آبی گزرگاہوں پر اسکیمیں اور تعمیرات کر کے پانی کے قدرتی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت دوسروں پر انگلی اٹھانے کا نہیں، خود احتساب کا ہے۔ ہمیں پوچھنا ہوگا کہ ہم نے اب تک کتنی غیرقانونی تجاویزات ہٹائیں؟
خواجہ آصف نے اشارہ دیا کہ طاقتور طبقے، جو ایوانِ بالا میں بیٹھے ہیں، خود ان تجاوزات میں ملوث ہیں ،سیاستدانوں نے دریا کنارے ہوٹل بنوائے، اور سب جانتے ہیں کہ وہ وہاں کیسے پہنچے۔ جب قیادت خود مثال نہ بنے، تو عوام کس کو رول ماڈل بنائیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بڑے ڈیم ہمیشہ آمریت کے دور میں بنے، کیونکہ تب فیصلے نافذ کرنے کی طاقت موجود تھی،جمہوری ادوار میں تو صرف سیاسی دکانداری چلتی ہے۔ اگر ہم نے ابھی بھی چھوٹے ڈیم نہ بنائے تو آئندہ پانی کے ایک ایک قطرے کو ترسیں گے۔ بھاشا اور مہمند ڈیم کا خواب کب پورا ہوگا؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں درجنوں چھوٹے ڈیمز تعمیر کیے جائیں، جو دو سے تین سال میں مکمل ہو سکتے ہیں، تاکہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھے اور سیلاب کا خطرہ کم ہو۔
لاہور، نارووال اور سیالکوٹ کی حالیہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ لاہور سے تو پانی جلد نکل گیا، لیکن سیالکوٹ اور نارووال میں کئی دن تک پانی کھڑا رہا — یہ سب تجاوزات کا نتیجہ ہے۔”
انہوں نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی غیر فعالیت پر بھی سخت تنقید کرتےہوئے کہاکہ بلدیاتی نظام کو ہم نے صرف سیاست کا آلہ بنایا، عوامی خدمت کا نہیں۔ اختیارات نیچے منتقل کیے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔
اپنی تقریر کے دوران ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مجھے بھی ‘واردات کی پیشکش ہوئی تھی۔ یہاں سب بکاؤ مال ہیں، بولیاں لگتی ہیں، اور لوگ اپنی قیمت خود لگا لیتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی ایڈونچرز کے ذریعے ایسے لوگ ایوانوں میں لائے جاتے رہے، تو وہ بھی عوام کے ساتھ وہی کچھ کریں گے، جو زیڈ کے بی نے سیالکوٹ کے ساتھ کیا تھا۔
سیلاب آئے تو مدد مانگتے ہیں لیکن خود کو نہیں دیکھتے ، خواجہ آصف








