بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلوں کی ایک ویڈیو نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف “پانی کو بطور ہتھیار” استعمال کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
یہ ویڈیو سینئر صحافی حامد میر نے سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں جنرل ڈھلوں کھلے عام اس منصوبے پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں جو پاکستان کے لیے سنگین ماحولیاتی اور انسانی خطرہ بن سکتا ہے۔
انٹرویو کے دوران جنرل ڈھلوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس جتنا پانی روکنے کی صلاحیت ہے، ہم اسے روک لیں گے۔ اور پھر ایک دن اچانک رات کے وقت سارا پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیں گے۔ پاکستان کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ اسے سنبھال سکے۔ نتیجہ سیلاب ہوگا، اور پاکستان نہ صرف پانی کے نقصان سے دوچار ہوگا بلکہ اس کا درست استعمال بھی نہیں کر سکے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ہم گرمیوں میں، جب پاکستان کو پانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تب پانی روک لیں گے۔ اور جب برسات کا موسم ہوگا، جب پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے، تب اچانک چھوڑ دیں گے۔ یوں ہم پانی کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکیں گے۔”
سندھ طاس معاہدے پر متنازع مؤقف
جنرل ڈھلوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو بھی کمزور انداز میں پیش کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ یہ کوئی عالمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک دو طرفہ معاہدہ ہے۔ بھارت چاہے تو پانی روکے یا چھوڑے، یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث خطے میں پانی کے مسائل مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
پاکستانی حلقوں میں اس ویڈیو کو بھارت کی مبینہ “آبی جارحیت” کے ارادوں کی عکاسی سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی جیسے قدرتی وسیلے کو ہتھیار بنانے کی سوچ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے۔
یہ معاملہ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی، اخلاقی اور ماحولیاتی بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اگر کسی ملک نے دانستہ طور پر پانی کے بہاؤ کو سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا، تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
This retired Indian General Kanwaljeet Singh Dhiloon is dreaming to destroy Pakistan by using water as a weapon. Just look at his mentality. Intellectually dishonest and corrupt. He is trying to please RSS because he need another govt job next year. Bloody job seeker. pic.twitter.com/A3unMYznh1
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) September 1, 2025









