ایران نے یوکرین پر بحیرہ خزر (Caspian Sea) میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں جہاز کا ایک ایرانی اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا ہے۔
یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ”کیف نے بحیرہ خزر میں دور تک مار کرنے والے حملوں سے بہترین نتائج حاصل کیے ہیں، جن میں ایران سے ملٹری کارگو کی ترسیل میں استعمال ہونے والے بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ ایک جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے“۔
Україна продовжує застосовувати далекобійні санкції у відповідь на російські удари. Цієї ночі воїни наших Сил оборони уразили у різних регіонах Росії цілі, які працюють на цю війну.
Це знову підприємство у Кірові, звідки постачають компоненти для засобів, якими Росія наносить…
— Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) July 25, 2026
اس کے ساتھ ہی زیلنسکی نے ایک اور بیان میں روس پر الزام لگایا کہ وہ خلیجی ممالک اور وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصاویر ایران کو فراہم کر کے اس کی فوجی مہم میں مدد کر رہا ہے۔
I will instruct our intelligence to share with our partners the information we have regarding Russia’s new assistance to the Iranian regime. Since the beginning of July, we have recorded active Russian satellite surveillance of the Gulf states and U.S. military facilities located…
— Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) July 25, 2026
اس واقعے کے فوری بعد تہران میں ایران کی وزارت خارجہ نے یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور اس اقدام کو معاندانہ، مجرمانہ اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
مزیدپڑھیں:کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں وائرل ہونے والی ‘آر اے ایف’ افسر کون ہیں؟
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کے شعبہ خارجہ کے سربراہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ”بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس حملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور اس کی مذمت کرنی چاہیے“۔
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے آغاز سے ہی یوکرین یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ ایران روس کو ہزاروں شاہد ڈرونز فراہم کر کے یوکرینی شہروں پر فضائی حملوں میں مدد دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد سے یوکرین نے مشرق وسطیٰ کے متاثرہ ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں میں اپنے فوجی اہلکار بھی بھیجے ہیں تاکہ وہ شاہد ڈرونز کو ہوا میں ہی تباہ کرنے میں مقامی فورسز کی مدد کر سکیں۔









