بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خیبرپختونخوا میں سیلاب سے 490 افراد جاں بحق، متاثرین کی بحالی پر تیزی سے کام جاری ہے،وزیراعلیٰ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ سیلابی صورتحال کے دوران 490 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور بحالی کے کام تیزی سے جاری ہیں۔
پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بنیر، شانگلہ، صوابی اور سوات جیسے اضلاع میں شدید تباہی مچائی۔ 12 سے 14 فٹ بلند سیلابی ریلے گھروں کو بہا لے گئے، کئی علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ علی امین گنڈا پور نے بتایا کہ تمام متعلقہ ادارے فوری متحرک ہوئے، اور صرف 24 گھنٹوں کے اندر اندر ہم نے تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کر کے ریسکیو کا کام مکمل کیا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20،20 لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا۔ زخمیوں کو بھی مالی امداد دی جا رہی ہے، جن میں سے 50 فیصد متاثرین کو رقم مل چکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چیک بکس کی کمی کی وجہ سے تمام زخمیوں کو فوری ادائیگیاں ممکن نہیں ہو سکیں، مگر حکومت جلد یہ مسئلہ بھی حل کر لے گی۔

گھروں کے نقصانات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جو گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، ان کے مالکان کو 10 لاکھ روپے بطور امداد دی جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری املاک کی بحالی کا عمل بھی جاری ہے۔  صوبے کی تاریخ میں اتنی تیزی سے متاثرین کی بحالی کے لیے کبھی کام نہیں ہوا، جتنا اس بار کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ماضی میں مناسب منصوبہ بندی کے تحت ڈیمز بنائے جاتے تو آج ہمیں اتنا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔”
انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ میں کسی کا پورا گھر نہیں بن سکتا، یہ صرف حکومت کی جانب سے ایک سہارا ہے۔
علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ 2022ء کے سیلاب سے ڈیرہ اسماعیل خان میں حاصل ہونے والے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ نئے ڈیمز پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی تباہی سے بچا جا سکے۔