اگست 2025 میں پاکستان کی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اگست میں برآمدات کا مجموعی حجم 10 فیصد کمی کے ساتھ 2 ارب 41 کروڑ ڈالر تک محدود رہا، جب کہ جولائی میں یہ حجم 2 ارب 68 کروڑ ڈالر تھا۔
گزشتہ سال اگست 2024 کے مقابلے میں بھی برآمدات میں 12.49 فیصد کمی دیکھی گئی، جب اس وقت برآمدات کا حجم 2 ارب 76 کروڑ ڈالر تھا۔
رپورٹ کے مطابق، اگست میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 8.81 فیصد بڑھ کر 2 ارب 86 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جو تشویشناک معاشی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے ابتدائی دو ماہ (جولائی تا اگست) کے دوران:
برآمدات میں معمولی 0.65 فیصد اضافہ دیکھا گیا، اور مجموعی حجم 5 ارب 10 کروڑ ڈالر رہا
تاہم درآمدات میں 14.23 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور ان کا حجم 11 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا
اس کے نتیجے میں صرف دو ماہ میں تجارتی خسارہ 29 فیصد بڑھ کر 6 ارب ڈالر سے زائد ہو چکا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، برآمدات میں کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافہ پاکستان کے لیے جاری کھاتوں کے خسارے (Current Account Deficit) کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے روپے پر دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔









