پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے سالانہ اجلاس میں ملکی معیشت، برآمدات، کاروباری لاگت اور زرمبادلہ ذخائر جیسے اہم معاشی موضوعات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ٹیکسٹائل سیکٹر کے نمایاں صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
معیشت میں مثبت پیشرفت
گورنر اسٹیٹ بینک نے اجلاس سے خطاب میں بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 14.3 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جب کہ ترسیلات زر 38 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکی ہیں — جو معیشت کے استحکام کی جانب ایک مثبت اشارہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جون 2025 میں افراط زر کی شرح گھٹ کر 3.2 فیصد رہ گئی ہے، جب کہ پالیسی ریٹ بھی کم ہو کر 11 فیصد پر آ چکا ہے، جو کاروباری طبقے کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔”
صنعتکاروں کے تحفظات اور مطالبات
اجلاس میں ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین نے کاروباری لاگت کو “غیر مسابقتی” قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی، خام مال اور اجرت کی بلند لاگت ہمارے عالمی مقابلوں میں پیچھے رہ جانے کی بڑی وجہ ہے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے پیش کیے گئے اہم مطالبات میں شامل تھے
برآمدی خام مال پر تمام ڈیوٹیز کا خاتمہ
سیلز ٹیکس کی شرح 3 سے 5 فیصد کے درمیان مقرر کی جائے
یکساں 1 فیصد ڈیوٹی ڈرا بیک اسکیم نافذ کی جائے
توانائی اور اجرتی لاگت کے لیے سبسڈی پر مبنی فنانسنگ سہولت فراہم کی جائے
ٹیکسٹائل کونسل کا کہنا تھا کہ اگر یہ اقدامات بروقت کیے جائیں تو ٹیکسٹائل سیکٹر پاکستان کی معاشی بحالی کا مرکزی ستون بن سکتا ہے۔









