پاکستان میں جلد ہی کرپٹو کرنسی کی قانونی خرید و فروخت کی راہ ہموار ہونے جا رہی ہے، کیونکہ ورچوئل ایسٹ اتھارٹی بل کی اہم شقیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے منظور کر لی ۔
اس بات کا اعلان ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی اجلاس میں کیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک اب کرپٹو پر پابندی ختم کرنے جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی قانون سازی مکمل ہوگی، ملک میں کرپٹو کرنسی کی تجارت کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔
■ سلیم مانڈوی والا نے واضح کیا کہ جلد ہی قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں گے، اور ان کے بعد شہری قانونی طور پر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری اور لین دین کر سکیں گے۔
■ ڈپٹی گورنر نے ایک اور اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک “ڈیجیٹل پاک روپیہ” کے پائلٹ پراجیکٹ پر بھی کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
بینکوں میں موجود موجودہ روپے کو مستقبل میں ڈیجیٹل پاک روپے میں بدلا جا سکے گا، اور اس کا ایکسچینج ریٹ عام روپے کے برابر ہوگا۔”
انہوں نے بتایا کہ کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت بھی اسی ڈیجیٹل پاک روپے کے ذریعے کی جائے گی، جو نظام کو شفاف اور محفوظ بنانے میں مدد دے گا۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی قانونی تجارت کا دروازہ کھلنے والا ہے








