ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث نان بائی ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے تک روٹی کی قیمت میں اضافہ کر دیا جائے گا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق مہنگائی کی موجودہ لہر اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں نے سرکاری نرخوں پر روٹی فروخت کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔
اس وقت سادہ روٹی کی سرکاری قیمت 14 روپے اور نان کی قیمت 25 روپے مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں آٹے کی قیمتیں کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہیں۔
آٹے اور گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
ملک کے مختلف شہروں میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ حالیہ بارشیں، سیلاب اور پنجاب سے دیگر صوبوں کو گندم کی ترسیل پر لگائی گئی پابندی بتائی جا رہی ہے۔
کراچی میں 100 کلو گرام گندم کی بوری کی قیمت 7200 روپے سے بڑھ کر 9300 روپے ہو چکی ہے، جبکہ 50 کلو آٹے کا تھیلا 5000 روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
پشاور میں 100 کلو گرام گندم کی بوری 9800 روپے اور 20 کلو آٹے کا تھیلا 2500 روپے سے زیادہ میں فروخت ہو رہا ہے۔
کوئٹہ میں گندم کی بوری 9600 روپے اور 20 کلو آٹا 2130 روپے تک پہنچ گیا ۔
اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں گندم کی فی من قیمت 3500 سے 3700 روپے تک ہو گئی ہے، اور 15 کلو آٹے کا تھیلا 150 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔
فائن میدہ بھی مہنگا، بیکری مصنوعات پر اثر
فائن میدہ کی قیمت میں اضافے کے باعث ڈبل روٹی اور دیگر بیکری اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
نان بائی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر گندم اور آٹے کی رسد اور قیمتوں کا معاملہ قابو میں نہ آیا تو مزید قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہو جائے گا۔
نان بائی ایسوسی ایشن کا اگلے ہفتے روٹی کے نرخ بڑھانے کا اعلان








