بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

تحصیل سمبڑیال میں سیلاب نےتباہی مچا دی، رندھیر باگڑیاں اور ملحقہ علاقوں کا شہر سے زمینی راستہ بند

سمبڑیال(ممتاز نیوز) سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال میں ہونے والی حالیہ شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں یکہ بعدیگرے چھوڑے جانے والے پانی نے بری طرح تباہی مچائی ہے۔رندھیر باگڑیاں اور ملحقہ بستیوں کا شہر سے زمینی راستہ سڑک پر شگاف پڑنے کی وجہ سے بند۔گزشتہ ماہ 26 اگست کو بھارت نے دریائے چناب میں تقریباً 11لاکھ کیوسک پانی چھوڑا جس نے پورے بیلے سے ملحقہ چھوٹے بڑے گاؤں اور بستیوں کو ڈبو دیا تھا جس کے چند روز بعد گزشتہ روز بھارت نے پھر ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک پانی دریائے چناب میں چھوڑ دیا جس سے پہلے سے ڈوبا ہوا علاقہ بیلا دوبارہ ڈوب گیا ، فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، سڑکیں ٹوٹ گئیں، مکان گر گئے، بے روزگاری اپنی انتہا پر ہے ، مزدور جو روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کر کے اپنا اوراپنے خاندان کا پیٹ پالتے تھے فاکوں پر آ چکے ہیں ،سکول اور ہسپتال بند ہیں ، جانور بہہ گئے اور جو بچ گئے وہ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں ۔ دریائے چناب کے بالکل کنارے پر واقع گائوں رندھیر باگڑیاں کا شہر سے زمینی راستہ سڑک میں شگاف پڑجانے کی وجہ سے گزشتہ دس روز سے بند ہے۔ رندھیر باگڑیاں سے ملحقہ چھوٹے گائوں مغل آباد، کشن گڑھ، ملیانوالہ، حسین پور، جمالپور، حبیب پور ، مدوکے، چاؤکے، بھگل شرقی ، بھگل غربی کا بھی یہی راستہ ہے۔ ان علاقوں سے روزانہ ہزاروں لوگ شہر کا رخ کرتے تھے جن میں سکول کے بچے، مریض، فیکٹریوں میں کام کرنے والے ورکر، دودھ اور سبزیاں سپلائی کرنےو الی گاڑیاں یہ سب لوگ اپنے اپنے گاؤں تک محدود ہوچکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی فوری مددکی جائے، رابطہ سڑک کو فوری بحال کیا جائےاور جن لوگوں کا سیلاب میں نقصان ہوا ہے ان کا ازالہ کیا جائے ۔ سیلابی پانی ابھی تک بیشتر جگہوں پر چل رہا ہے جس سے نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔