غزہ شہر ایک بار پھر شدید خوف اور بے یقینی کی فضا میں ڈوبا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام بلند و بالا عمارتوں کو نشانہ بنائے گی جو مبینہ طور پر حماس کے زیرِ استعمال ہیں۔ اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد غزہ کی ایک بلند عمارت کو فضائی حملے میں تباہ کر دیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہاں سے اس کے فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ شہر میں کئی ایسی بلند عمارتیں موجود ہیں جو اب “دہشت گردی کی تنصیبات” میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ان میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، سنائپرز کی پوزیشنز، نگرانی کے کیمرے، اور اینٹی ٹینک ہتھیاروں کے اڈے شامل ہیں۔
فوج کے مطابق ان عمارتوں کو نشانہ بنانے سے پہلے شہریوں کو انتباہی پیغامات دیے گئے تاکہ جانی نقصان کم سے کم ہو، تاہم زمینی حقائق کچھ اور کہانی بیان کر رہے ہیں۔
غزہ کے 45 سالہ رہائشی احمد ابو وفا نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے فون پر گفتگو میں کہا:
ٹاورز اور اپارٹمنٹس پر بمباری کی خبریں انتہائی خوفناک ہیں، ہر طرف خوف کا عالم ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ جائے پناہ کہاں ہے۔
غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی کے مطابق، جمعے کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ شہر اور اطراف کے علاقوں میں کم از کم 19 فلسطینی شہری جاں بحق ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ شہر میں اس وقت تقریباً 10 لاکھ افراد آباد ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب اسرائیل نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ غزہ کے سب سے بڑے شہری مرکز پر مکمل قبضے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تقریباً دو سال سے جاری اس جنگ میں اسرائیلی حملے اب ایک نئی شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا غزہ کی بلند عمارتوں پر حملوں کا آغاز، شہریوں میں خوف کی لہر








