بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امارات کی وارننگ پر اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کا منصوبہ مؤخر کر دیا

واشنگٹن، یروشلم (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی سخت وارننگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوشش عارضی طور پر روک دی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی کابینہ کا ایک اہم اجلاس دراصل مغربی کنارے کے بڑے حصے پر اسرائیلی خودمختاری کے نفاذ پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، تاہم اماراتی دباؤ کے بعد اجلاس کا ایجنڈا تبدیل کر کے فلسطینی علاقوں میں بگڑتی سیکیورٹی صورتحال پر مرکوز کر دیا گیا۔

حالیہ دنوں اسرائیل کے وزیر خزانہ نے تجویز دی تھی کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے پانچ میں سے چار بڑے حصوں کو اسرائیل میں ضم کر لیا جائے۔ اس تجویز پر متحدہ عرب امارات نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے یہ قدم اٹھایا تو یہ امارات کے لیے سرخ لکیر ثابت ہوگا اور ابراہیمی معاہدے سے امارات باہر نکلنے پر مجبور ہو جائے گا۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب خلیجی ممالک نے اسرائیل کو مغربی کنارے میں یکطرفہ اقدامات سے باز رہنے کا پیغام دیا ہے۔ تاہم امارات کی اس تازہ وارننگ کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اسرائیل اور امارات کے تعلقات 2020 کے ابراہیمی معاہدے کے بعد سے معاشی اور دفاعی سطح پر گہرے ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر مکمل خودمختاری کے نفاذ کی کوشش نہ صرف فلسطین میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے بلکہ خطے میں جاری معمول پر آنے کے عمل کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔