بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بچوں کے لیے خطرہ؟ گوگل کا جیمنائی چیٹ بوٹ ’ہائی رسک‘ قرار

نیویارک/نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی دنیا میں گوگل کا جیمنائی ایک نمایاں نام سمجھا جاتا ہے، مگر ایک حالیہ تحقیق نے والدین کے لیے نئی تشویش کھڑی کر دی ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق بچوں کی حفاظت پر کام کرنے والی تنظیم کامن سینس میڈیا نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جیمنائی کا وہ ورژن جو کم عمر صارفین کے لیے پیش کیا گیا ہے، دراصل بڑوں والا ہی چیٹ بوٹ ہے جس پر صرف کچھ اضافی فلٹر لگا دیے گئے ہیں۔ ادارے نے اس صورتِ حال کو بچوں کے لیے ’ہائی رسک‘ قرار دیا ہے۔

نامناسب مشوروں کا خدشہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیمنائی بعض اوقات نقصان دہ مواد روک لیتا ہے، مگر یہ اب بھی بچوں کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ مشورے دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ذہنی صحت جیسے نازک موضوعات پر اس کے جوابات غیر محفوظ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی پہلو سب سے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ بعض والدین نے حالیہ مہینوں میں نوجوانوں کی خودکشی کے واقعات میں چیٹ بوٹس کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔

مقدمات اور دباؤ

چند والدین اس حوالے سے قانونی چارہ جوئی بھی کر رہے ہیں۔ اوپن اے آئی پر بھی ایک 13 سالہ بچے کی خودکشی کے بعد مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جس کے بعد کمپنی نے جلد ہی نوجوان صارفین کے لیے پیرنٹل کنٹرول فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

ادارے کی سفارشات

کامن سینس میڈیا نے والدین کے لیے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

پانچ سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی اے آئی چیٹ بوٹ سے مکمل طور پر دور رکھا جائے۔

چھ سے بارہ سال تک کے بچے صرف والدین کی نگرانی میں استعمال کریں۔

اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوان ان پلیٹ فارمز کو ذہنی و جذباتی سہارا لینے کے لیے استعمال نہ کریں۔

ادارے کے ڈائریکٹر رابی ٹورنی کے مطابق، ایسے پلیٹ فارمز بچوں کی عمر اور ذہنی سطح کے حساب سے ڈیزائن ہونے چاہئیں، نہ کہ سب کے لیے ایک ہی ماڈل پیش کر دیا جائے۔

ایپل اور دیگر چیٹ بوٹس

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی حلقوں میں یہ بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایپل اپنی آئندہ جنریشن سری کے لیے گوگل جیمنائی استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو والدین کی تشویش مزید بڑھ سکتی ہے۔

کامن سینس میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دیگر چیٹ بوٹس کا بھی جائزہ لیا ہے۔

میٹا اے آئی اور کریکٹر اے آئی کو ’’انتہائی خطرناک اور ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا گیا۔

چیٹ جی پی ٹی کو نسبتاً محفوظ یعنی اعلیٰ درجہ دیا گیا۔

پرپلیکسیٹی کو درمیانے درجے کا اور

کلاڈ کو کم خطرے والا بتایا گیا۔