واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ 2019 میں امریکی نیوی سیلز کا ایک انتہائی خفیہ آپریشن شمالی کوریا میں بری طرح ناکام ہوا، جس کے نتیجے میں کئی عام شہری ہلاک ہوگئے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ آپریشن شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن کی جاسوسی کے لیے ’’سننے والے آلات‘‘ نصب کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ تاہم کارروائی فوری طور پر بے نقاب ہوگئی اور امریکی کمانڈوز نے ایسے شہریوں کو نشانہ بنا دیا جو بظاہر غوطہ خوری میں مصروف تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مشن براہِ راست صدارتی منظوری کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ لیکن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اس کارروائی کا کوئی علم نہیں تھا۔
خبر میں بتایا گیا کہ کئی ماہ کی تیاریوں کے باوجود آپریشن ناکام رہا۔ یہ وہی یونٹ تھا جس نے 2011 میں اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں ہلاک کیا تھا۔ کمانڈوز آبدوزوں کے ذریعے شمالی کوریا پہنچے تھے، تاہم ایک چھوٹی کشتی میں موجود عام افراد نے ان کی کارروائی کو بے نقاب کر دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں مبینہ طور پر دو سے تین عام شہری مارے گئے۔
بعدازاں امریکی سیلز بحفاظت واپس نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ تاہم تحقیقات کے باوجود ان ہلاکتوں کو ’’جائز‘‘ قرار دیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی ایلیٹ فورسز دنیا بھر میں کس قدر خفیہ اور آزادانہ کارروائیاں انجام دیتی ہیں، چاہے اس کے نتائج کتنے ہی خطرناک کیوں نہ ہوں









