اسرائیلی سپریم کورٹ نے حکومت کو جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو 3 وقت کھانا فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ نے اتوار کو کہا کہ حکومت نے فلسطینی قیدیوں کو بنیادی خوراک سے محروم رکھا ہے اور حکام کو حکم دیا کہ وہ قیدیوں کو دی جانے والی خوراک کی مقدار بڑھائیں اور معیار بہتر کریں۔
رپورٹ کے مطابق 3 رکنی بینچ نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ اسرائیلی حکومت قانونی طور پر پابند ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو دن میں3 وقت کا کھانا فراہم کرے اور حکام کو اس ذمہ داری کو پورا کرنے کا حکم دیا۔
اسرائیلی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 2 اسرائیلی انسانی حقوق تنظیموں کی درخواست پر سنایا گیا جنہوں نے الزام لگایا تھا کہ قیدیوں کو خوراک کی کمی کے باعث بھوک اور غذائی قلت کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے تقریباً 2 سالہ جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے ہزاروں فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔
ہزاروں افراد کئی ماہ کی قید کے بعد بغیر کسی الزام کے رہا ہوئے اور انہوں نے اذیت ناک حالات بیان کیے، جن میں قلیل خوراک، ناکافی طبی سہولتیں وغیرہ شامل ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 61 فلسطینی اسرائیلی قید میں شہید ہو چکے ہیں۔
مارچ میں اسرائیل کی جیل میں ایک 17 سالہ فلسطینی قیدی کی موت ہوئی جس کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ غالباً وہ بھوک اور غذائی قلت سے ہلاک ہوا۔









