نئی دہلی(نیوز ڈیسک) بین الاقوامی جریدے الجزیرہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں آزادیٔ اظہار اور صحافت پر سخت قدغنیں لگا دی گئی ہیں، اختلاف رائے کو جرم اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو گناہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے **سہیوگ پلیٹ فارم** کے ذریعے میٹا، گوگل اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہزاروں حکومت مخالف پوسٹس ہٹانے کے نوٹس دیے ہیں۔ صرف اکتوبر 2024 سے اب تک 3,465 URLs پر تقریباً 300 ٹیک ڈاؤن درخواستیں دائر کی گئیں۔ سہیوگ کے تحت ضلعی افسران اور پولیس کو براہِ راست سنسرشپ کے اختیارات دے دیے گئے، جس سے سپریم کورٹ کی حفاظتی شقیں بھی غیر مؤثر ہو گئیں۔
الجزیرہ کے مطابق، مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں ٹیک ڈاؤن آرڈرز میں 14 گنا اضافہ ہوا۔ 2014 کے بعد سے آزاد میڈیا، صحافی اور حتیٰ کہ بین الاقوامی نیوز ایجنسیز بھی نشانہ بنیں۔ مکتوب، کشمیر ٹائمز کی ایڈیٹر انورا دھا بھاسن اور رائٹرز جیسے اداروں کو بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے نام پر وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بینرجی کی محض ایک طنزیہ میم تک کو بلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح “The Wire” کو آپریشن سندور کی ناکامی شائع کرنے پر بند کر دیا گیا۔
بھارت دنیا کی **ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس** میں 180 ممالک میں سے 151ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ ڈی ڈبلیو اور دیگر عالمی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں اور لکھاریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان بھارت میں آمریت کے بڑھتے اثرات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو برداشت کرنے کے بجائے زبردستی خاموش کرایا جا رہا ہے۔









