بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آزاد کشمیر میں مختلف قبائل کا سیاست پر راج، الیکشن سے قبل پارٹیاں تبدیل کرنے والے امیدوار کون ہیں؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی(Azad Jammu and Kashmir Legislative Assembly) کے انتخابات 2026 میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی، مسلم کانفرنس اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی میدان میں ہیں۔

آزاد کشمیر میں ہر الیکشن سے قبل سیاسی پنچھی اڑان بھر کر ایسی جماعت کی طرف چلے جاتے ہیں، جو حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں، چونکہ آزاد کشمیر میں برادریوں کی سیاست کا بہت عمل دخل ہے، اور مختلف قبائل اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس انتخاب میں بھی کئی اہم سیاسی رہنماؤں نے پارٹیاں تبدیل کی ہیں، جس کے بعد کئی حلقوں میں مقابلہ دلچسپ ہوگیا ہے۔

سردار تنویر الیاس
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس جماعتیں تبدیل کرنے والے نمایاں سیاستدانوں میں شامل ہیں۔ وہ 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر وزیراعظم منتخب ہوئے، بعد ازاں استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوئے، پھر پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ بنے اور بعد میں دوبارہ استحکام پاکستان پارٹی میں واپس آ گئے۔ موجودہ انتخابات میں وہ آئی پی پی کے امیدوار ہیں۔

ملک یوسف
کوٹلی کے حلقہ ایل اے 10 سے 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک یوسف تھے، جنہیں 9 ہزار 507 ووٹ ملے تھے۔ بعد ازاں وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے، تاہم ٹکٹ نہ ملنے پر استحکام پاکستان پارٹی کا رخ کر لیا اور اب آئی پی پی کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں ہیں۔

چوہدری اظہر صادق
میرپور کے حلقہ ایل اے ایک ڈڈیال سے 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے چوہدری اظہر صادق اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے چوہدری افسر شاہد سے ہوگا۔

علی شان سونی
بھمبر کے حلقہ ایل اے 6 سماہنی سے گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے علی شان سونی اب استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے محمد رزاق چوہدری ان کے مدمقابل ہیں۔

ملک ذوالفقار علی
کوٹلی کے حلقہ ایل اے 8 راج محل میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے معاملے پر اختلافات کے بعد ملک ذوالفقار علی نے جماعت چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اب آئی پی پی کے امیدوار ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی پاسپورٹ درجہ بندی میں بہتری کے باوجود کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل

نثار انصر ابدالی
کوٹلی کے حلقہ ایل اے 13 کھوئی رٹہ سے 2021 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے نثار انصر ابدالی بھی اب استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں، اور عام انتخابات میں امیدوار ہیں۔

سردار میر اکبر
باغ کے حلقہ ایل اے 16 سے گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے سردار میر اکبر اب مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ سردار میر اکبر نے 2016 کے الیکشن میں بھی ن لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی، اور پھر 5 سال تک وزیر حکومت رہے۔

ثاقب مجید راجا
مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 31 کھاوڑہ سے گزشتہ انتخابات میں مسلم کانفرنس کے امیدوار رہنے والے ثاقب مجید راجا اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں اور ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے چوہدری لطیف اکبر سے ہوگا۔

راجا مظہر قیوم
راجا مظہر قیوم بھی ان سیاستدانوں میں شامل ہیں جنہوں نے مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور موجودہ انتخابات میں آئی پی پی کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ راجا مظہر قیوم کا تعلق بھی مظفرآباد کے حلقہ 5 کھاوڑہ سے ہے۔

ملک ظفر
حلقہ ایل اے 11 کوٹلی سے تعلق رکھنے والے ملک ظفر نے 2021 کے انتخابات پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے لڑے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور موجودہ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔

یاسر سلطان
میرپور کے حلقہ ایل اے 3 سٹی سے تعلق رکھنے والے یاسر سلطان بھی ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ اس مرتبہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں ہیں۔ یاد رہے کہ چوہدری یاسر سلطان سابق صدر و وزیراعظم بیرسٹر سلطان (مرحوم) کے فرزند ہیں۔

چوہدری رشید
چوہدری رشید نے گزشتہ انتخابات پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر لڑے تھے۔ بعد ازاں وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے، تاہم موجودہ انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی اور اب ن لیگ کے امیدوار ہیں۔ یوں وہ مختصر عرصے میں تین مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہنے والے نمایاں سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق حلقہ ایل اے 33 لیپہ ویلی سے ہے۔

چوہدری اخلاق
کوٹلی کے حلقہ ایل اے 11 سہنسہ سے 2021 کا الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتنے والے چوہدری اخلاق اب پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں، اور تیر کے نشان پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔

دیوان چغتائی
لیپہ ویلی کے حلقے سے تعلق رکھنے والے دیوان چغتائی بھی ان اہم سیاستدانوں میں شامل ہیں جنہوں نے انتخاب سے قبل اپنی سیاسی جماعت تبدیل کی۔ وہ گزشتہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ تھے، تاہم موجودہ انتخابات سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور اب پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں ہیں۔

عبدالماجد خان
عبدالماجد خان نے بھی گزشتہ انتخابات پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے لڑے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور موجودہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ وہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشست ایل اے 45 ویلی 6 سے امیدوار ہیں۔

چوہدری انوارالحق
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے 2021 کا الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتا تھا، تاہم موجودہ انتخابات میں وہ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں، وہ آفر کے باوجود کسی دوسری سیاسی جماعت کا حصہ نہیں بنے۔

سیاسی اثرات
سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر میں امیدواروں کی ذاتی سیاسی حیثیت، برادری اور مقامی اثر و رسوخ کئی حلقوں میں جماعتی وابستگی سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کے باوجود استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والے سابق پی ٹی آئی رہنما اور دیگر جماعتیں چھوڑنے والے امیدوار کئی نشستوں پر نتائج تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث اس بار کا انتخاب گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ دلچسپ تصور کیا جا رہا ہے۔