نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف شروع ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج نے ملک گیر بغاوت کی شکل اختیار کر لی، جس کے دوران ملک بھر سے 13,500 قیدی جیلوں سے فرار ہو گئے۔
نیپالی پولیس کے ترجمان کے مطابق، مظاہروں کے دوران 3 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ کئی جیلوں پر حملے کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں قیدیوں کو جیلوں سے نکلتے اور فوج کو انہیں روکنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔
پولیس اب صرف ہیڈکوارٹرز تک محدود ہے، اور امن و امان کی بحالی کے لیےفوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے۔ فوج کے سربراہ نے مظاہرین سے پرامن مذاکرات کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ یہ احتجاج سوشل میڈیا پر عائد پابندی کے خلاف شروع ہوا تھا، جو بعد میں وزیراعظم کے پی شرما اولی کے استعفے پر منتج ہوا۔ تاہم، مظاہرے اب بھی جاری ہیں اور کئی سرکاری و نجی عمارتوں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔
نیپال میں احتجاج کے دوران 13 ہزار سے زائد قیدی فرار








