بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین نے ایٹمی توانائی سے متعلق قانون منظور کر لیا۔
چینی میڈیا کے مطابق چین کے قانون سازوں نے جمعہ کے روز ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کا مقصد ایٹمی توانائی کی تحقیق، ترقی اور پرامن استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
قانون قومی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں منظور کیا گیا، ایٹمی توانائی کا یہ قانون 8 ابواب اور 62 دفعات پر مشتمل ہے، اس قانون کے مطابق چین ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کی حمایت کرتا ہے، اس سلسلے میں بین الاقوامی تبادلوں اور تعاون کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کی کامیابیوں کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کی بھی وکالت کرتا ہے۔
قانون میں یہ بھی درج ہے کہ چین ان بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا جن پر وہ دستخط کر چکا ہے یا جن کا فریق بن چکا ہے۔قانون کے مطابق چین ہر قسم کی جوہری پھیلاؤ (نیوکلیئر پَرولیفریشن) کی سرگرمیوں کی مخالفت اور ممانعت کرے گا، جوہری دہشت گردی کے خطرات سے بچاؤ اور ردعمل کے لیے اقدامات کرتا رہے گا، اور ایک منصفانہ، باہمی تعاون پر مبنی، اور مشترکہ مفاد والا بین الاقوامی جوہری سلامتی کا نظام قائم کرنے کو فروغ دیتا رہے گا۔
یہ قانون ایٹمی سلامتی کا ایک مربوط نظام قائم کرنے کی بھی ہدایت دیتا ہے تاکہ ایٹمی توانائی کی تحقیق، ترقی اور استعمال کی سرگرمیوں میں سیکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ قانون 15 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔









