وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب میںاینٹی ہورڈنگ مہم کے تحت کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آ گئے۔ مصنوعی گندم بحران کی حقیقت چند روز میں واضح ہو گئی۔
فوڈ ڈائریکٹوریٹ، پیرا اور ضلعی انتظامیہ نے صوبے بھر میں 1452 مقامات پر چھاپے مارے، جن میںبڑے پیمانے پر چھپائی گئی گندم برآمد ہوئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،فلور ملز کے ذخائر 31 اگست کو 14.19 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 12 ستمبر تک15.46 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے۔
سیکرٹری پرائس کنٹرول ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق، 1.84 لاکھ میٹرک ٹن چھپائی گئی گندم برآمد، 2.48 لاکھ میٹرک ٹن گندم گرائنڈ کی گئی، 5.59 لاکھ میٹرک ٹن گندم مارکیٹ میں لائی گئی، جس سےآٹے کی قیمتوں میں استحکام آیا۔
انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری ہے اور عوام و تاجروں سے اپیل ہے کہ وہ بدعنوان عناصر کی نشاندہی میں تعاون کریں۔ مہم کے ذریعے نہ صرف قیمتوں میں بہتری آئی بلکہ فوڈ سکیورٹی کے اہداف بھی حاصل ہو رہے ہیں۔
پنجاب میں گندم ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن، مصنوعی بحران بے نقاب








