واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ قطر میں حالیہ واقعات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناخوش ہیں جبکہ کئی ممالک بھی شدید ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکا قطر میں ہونے والی میٹنگ میں شریک نہیں ہوگا، ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ آگے کس طرح بڑھنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یروشلم میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران دوحہ پر حملے کے معاملے پر بات کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ اور مارکو روبیو نے جمعے کو قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے ملاقات کی تاکہ اسرائیلی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اس ملاقات کو اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم اتحادیوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
روبیو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ حماس کو شکست دی جائے، جنگ ختم ہو، اور تمام 48 مغوی افراد واپس لائے جائیں چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ۔ ان کے مطابق اب یہ دیکھنا ہے کہ گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعات ان مقاصد پر کس طرح اثر انداز ہوئے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ پیر کو یروشلم میں نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کے قیام پر متنازع بحث متوقع ہے جس کی اسرائیل بھرپور مخالفت کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق روبیو کا یہ دورہ اسرائیل کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کے تناظر میں امریکی حمایت کا مظہر ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کو وائٹ ہاؤس میں روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس نے قطری وزیرِ اعظم سے ملاقات کی تھی جبکہ اسی دن صدر ٹرمپ نے نیویارک میں شیخ محمد بن عبدالرحمٰن کے ساتھ عشائیہ بھی کیا۔ یہ ملاقات نائن الیون حملوں کی برسی کے موقع پر ٹرمپ کی نیویارک آمد کے دوران ہوئی۔
یاد رہے کہ منگل کو دوحہ میں حماس رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کے بعد عالمی سطح پر سخت ردعمل اور مذمت سامنے آئی تھی۔









