بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

محکموں کی نجکاری،اسٹیبلشمنٹ ،بیوروکریسی کو ایک لاکھ سے زیادہ تنخواہ نہ دیں،چیئرمین ایگری فورم کا وزیراعظم کو مشورہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چیئرمین ایگری فورم پاکستان ڈاکٹر ابراہیم مغل نے وزیراعظم شہبازشریف کے نام کھلے خط میںملک کو مشکلات سے نکالنے کے لئے بعض تجاویزپیش کرتے ہوئے کہاہے کہ طویل مدتی پالیسیاں بنائیں جائیں، ملک کی برآمدات بڑھائی جائیں،اسٹیبلشمنٹ ،بیوروکریسی کو ایک لاکھ روپے تنخواہوں سے زیادہ نہ دی جائیں،چند محکموں کے علاوہ باقی محکموں کی نجکاری کر دی جائے، اٹھارٹیز بنائی جائیں ،سبز پلیٹوں والی گاڑیوں کی تعداد ساٹھ فیصد فوری کم کر دی جائیں۔
وزیراعظم کے نام کھلے خط میں ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہاکہ مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچانے والوں میں ان کے ساتھ والے ہیں جس کی تفصیل یہاں نہیں بیان کی جا سکتی، عیارانہ چالوں مکر و فریب، شیطانیت و فسطائیت اور اسلام پسندوں کی نسبت نہیں ملتی، اس سے جمعیت علمائے اسلام ف اور مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچا ہے ،اگر حالات اس قدر خراب تھے تو اس کی مجموعی کیفیات عمرانیہ رجیمات کے سر سے اتار کر اپنے سر لینے کی کیا ضرورت تھی؟ اب مسلم لیگ ن کے مرکزی کارکنوں کو بھی مایوسیوں میں دھکیل دیا گیا ہے ،مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا گیا ، اس مہنگائی کے طوفان کے ذمہ دار روس اور امریکہ ہیں یوکرائن کی جنگ سے تیل کو آگ لگا دی گئی جس سے مہنگائی کا طوفان برپا ہوا ہے یورپی ممالک یا خلیجی ممالک میں بھی مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا گیا ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو کولیشن سپورٹ حکومت لوگوں کو یہ بات سمجھانے میں ناکام رہی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی عمرانیہ رجیمات کی وجہ سے اور عالمی کفری طاقتوں کی جانب سے ہوئی ہے جب کوئی چیز سو روپے کی خریدیں گے تو وہ پچاس کی نہیں بیچی جا سکتی خلیجی ممالک میں بھی عالمی مارکیٹ کے حساب سے تیل مہنگا کرتے ہیں تو پاکستان میں کس طرح سے سستا دیا جائے ؟
ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہاکہ اس وقت لانگ ٹرم پالیسیوں کو اپنانے کی ضرورت ہے جب تک ہم پاکستان میں اپنے ایکسپورٹ بڑھانے کی کوشش نہیں کرتے تو ہمارے پاس آمدنی کہاں سے آئے گی دوسری طرف ہمیں اپنے اخراجات کو کم کرنے کی ضرورت ہے اگر یورپی ممالک کے سربراہان عام عوام کی طرح زندگی گزارنے پہ مشہور ہیں تو پاکستان میں اشرافیہ مگرمچھوں اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی کو ایک لاکھ روپے تنخواہوں سے زیادہ نہ دی جائیں اس طرح کے بہت سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں کہ پاکستان مقروض نہ بنے اور ہمارے پاس بہت ہی مخلص اور دیانتدار اور قابل لوگوں کی کمی نہیں ہے مگرمچھوں کی عیاشیوں اشرافیہ کی سمجھ میں کمی ہے ماہرین معاشیات بھی جو پاکستان کو تباہیوں و بربادیوں سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کو ذمہ داریاں دینے کی کیا ضرورت ہےمشکل وقت ہے کٹ جائے گا نان ڈویلپمینٹ فنڈ میں چالیس فیصد کٹوتی کرکے ملک کے آٹھ کروڑ افراد کو چالیس روپے کلو آٹاساٹھ روپے کلو چاول ساٹھ روپے کلو چینی یا شکرسو روپے کلو دالاور تین سو روپے کلو گھی سستی پتی چائے و بنیادی ضروریات کی اشیاء جیسے صابن وغیرہ آسانی سے دیا جا سکتا ہے
انہوں نے کہاکہ چند محکموں کے علاوہ باقی محکمے پرائیویٹ کر دیں اٹھارٹیز بنائیں سبز پلیٹوں والی گاڑیوں کی تعداد ساٹھ فیصد فوری کم کر دیں بھارت میں چار بابو ایک کار میں سفر کرتے ہیںآئی ٹی ایکسپورٹ کو تیس سے چالیس ارب ڈالر تک لے جانے کا ہنگامی بندوبست کریں حمزہ شہباز پانچ لاکھ نوجوانوں کو ایکسپورٹ کرنے کے لئے دورے کریں اور مریم نواز تین لاکھ خواتین کو باہر جاب دلانے کی ٹاسک لیںزراعت اور لائیو سٹاک میں تیس فیصد اضافہ عین ممکن ہے اگر بابو جان چھوڑ دے تو رائے محمود اچھا شخص ہے اس سے پیداواری کام لیںفری بجلی محکمے کے افراد کو میں پچاس فیصد کٹوتی کریں۔
انہوں نے وزیراعظم سے کہاکہ آپ کے ارسطو نے جہالت کی انتہا کردی کرپشن پر بیان دینے میں اسے زیادہ استعمال نہ کریں اس میں استطاعت کم ہے بس لفاظی ہے،مسلم ن ان پوائنٹس کو میاں شہباز شریف کے ذریعے قوم کو اناونس کرا دیں اور قوم سے کڑے وقت میں کھل کے مدد اور ساتھ طلب کریں چائنہ اگر سی پیک کا پچیس سال کا ایڈوانس کرایہ اگر دے دے تو مہنگے قرضے فوری ادا کریں آئندہ قرض لینا ہو تو وزیراعظم ،چیف جسٹس ،چیف آف آرمی سٹاف، بابوؤں کا ایک نمائندہ اور اپوزیشن لیڈر کی کمیٹی بنائیں اور کمیٹی لکھ کر اتفاق کرے تو قرض لیں ورنہ نہ لیں روکھی سوکھی کھائیںقوم کو گھی چینی چائے اور سگریٹ کے کم استعمال کا مشورہ دیں۔
انہوں نے وزیراعظم سے کہاکہ وہ ٹویٹ یا خطاب اردو میں کیا کریں قوم کا دل جیتیں جو اسی فیصد عین ممکن ہے