کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو کا امریکی ویزا اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب انہوں نے نیویارک میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی اور امریکی فوجیوں کو ان کے احکامات ماننے سے روکنے کی اپیل کی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ صدر پیٹرو کا ویزا ان کی ’’بے احتیاط اور اشتعال انگیز‘‘ گفتگو کی وجہ سے منسوخ کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب صدر پیٹرو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک میں موجود تھے۔ انہوں نے یو این ہیڈکوارٹر کے باہر فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کو مخاطب کیا اور کہا میں امریکی فوج کے تمام سپاہیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنی بندوقیں عوام کی طرف نہ اٹھائیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کی پیروی نہ کریں بلکہ انسانیت کی آواز پر لبیک کہیں۔صدر پیٹرو کے اس خطاب کو امریکی حکام نے فوج کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف قرار دیا۔ خطاب کے بعد صدر پیٹرو نے ایکس پر مزید ویڈیوز شیئر کیں اور فلسطین کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا’’فلسطین کو آزاد کرو۔ اگر غزہ کا سقوط ہوا تو انسانیت مر جائے گی۔‘‘
منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے باضابطہ خطاب کے دوران بھی پیٹرو نے سابق صدر ٹرمپ کو غزہ میں ہونے والی ’’نسل کشی‘‘ کا شریک قرار دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بحیرہ کیریبین میں منشیات اسمگلنگ کے شبہ میں امریکی میزائل حملوں پر بھی شدید اعتراض کیا اور ان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ نے اس نوعیت کا اقدام کیا ہو۔ چند ہفتے قبل فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کے وفد کے نیویارک ویزے بھی منسوخ کر دیے گئے تھے۔
کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو کا امریکی ویزا منسوخ، وجہ ٹرمپ پر تنقید








