وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف دو ٹوک مؤقف اپنانے کے بجائے ابہام پیدا کر رہی ہے، جلسے جلوس ان کا حق ہے، مگر کالعدم تنظیموں پر نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔
فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ صوبائی حکومت بات چیت کی بات کرتی ہے، مگر ان عناصر سے کیسے بات کی جائے جو فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں؟ دہشتگردوں سے نرمی کا مطلب ان کے لیے محفوظ پناہ گاہیں دینا ہے، اور یہ قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف 600 ارب روپے ملے، مگر نہ سی ٹی ڈی کو سہولیات دی گئیں، نہ سیف سٹی یا فرانزک منصوبے بنے، آخر یہ فنڈز کہاں گئے؟
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ خوارج (کالعدم گروہ) افغانستان سے سرحد پار کر رہے ہیں، 17 دہشتگرد کرک میں مارے گئے، اور شواہد عالمی برادری سے شیئر کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد صوبوں کی ذمہ داری ہے، صرف فوج لڑ رہی ہے، جبکہ سیاستدان خاموش ہیں۔
انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان پر الزام لگایا کہ ان کا بیانیہ بھارت و اسرائیل سے ملتا جلتا ہے، وہ شہداء کے لیے ایک ٹوئٹ بھی نہیں کرتے اور خوارج کے خلاف کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں۔
اختتام پر انہوں نے کہا کہ حکومت کی سفارتی کامیابیوں کا فائدہ عوام تک تبھی پہنچے گا جب صوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں وفاق کا ساتھ دیں۔
خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی پر واضح مؤقف اپنائے: طلال چوہدری








