اسلام آباد میں نان اور روٹی کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ضلعی انتظامیہ کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ نانبائی ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلہ کیا، جس سے ان کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو نانبائیوں کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روک دیا اور تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایت دی کہ وہ 30 ستمبر کو نانبائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کریں اور ان کے تحفظات سنیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ تمام فریقین کا مؤقف سنے بغیر کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ کیس کی دوبارہ سماعت یکم اکتوبر کو ہوگی۔
سماعت کے دوران نانبائی ایسوسی ایشن کے وکیل، بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد گندم اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن انتظامیہ نے قیمتوں کے تعین میں اس اہم حقیقت کو یکسر نظرانداز کیا۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو نانبائیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے فی الحال گریز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نانبائیوں کے خلاف کارروائی روک دی








