پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے پیر کو بتایا کہ صوبے میں انسانی پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین مہم کو بدھ تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ مقررہ ہدف 100 فیصد حاصل کیا جا سکے۔ ستمبر کے اوائل میں پاکستان نے نوعمر لڑکیوں کو رحم کے کینسر سے بچانے کے لیے ایچ پی وی ویکسین کو قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں شامل کیا تھا، مگر ویکسین لگوانے میں اب بھی ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے جس کی وجہ غلط معلومات، تحفظات اور حکام پر عدم اعتماد ہے۔
وزیر صحت نے نجی ٹی وی پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں کہا کہ پنجاب میں مہم کی کامیابی کی شرح 72 فیصد رہی ہے، لیکن مہم مکمل نہیں کی گئی بلکہ اسے مزید تین دن کے لیے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس مہم کے دوران 9 سے 14 سال کی لڑکیوں کو یہ ویکسین مفت دی جا رہی ہے، مگر مہم ختم ہونے کے بعد صرف 9 سال کی بچیوں کو مفت ویکسین ملے گی اور باقی کو اسے خریدنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق سروائیکل کینسر کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن زیادہ تر کیسز انسانی پیپیلوما وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں، جو جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس کینسر کی عام علامات میں جنسی تعلق کے دوران درد، ماہواری کے دوران غیر معمولی خون بہنا، اندام نہانی سے بدبودار مادے یا خون کا اخراج اور جنسی تعلق کے بعد جسم کے نچلے حصے میں درد شامل ہیں۔ اگر خواتین میں ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً گائناکالوجسٹ سے رابطہ کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔









