ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت نے ایک لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے لیے ایک اور ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کی جانب سے جاری کردہ اس ٹینڈر کے تحت بولیاں 6 اکتوبر تک طلب کی گئی ہیں، جو اسی روز کھولی جائیں گی۔ ٹینڈر کی شرائط کے مطابق 25 ہزار ٹن سے کم کی کوئی بھی بولی قبول نہیں کی جائے گی۔
حکومتی فیصلے کے مطابق چینی کی درآمد سرکاری سطح پر ٹی سی پی کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ اس درآمد پر تمام ٹیکسز سے استثنیٰ دیا گیا ہے تاکہ عوام تک چینی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔
یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے جولائی 2025 میں مجموعی طور پر 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس فیصلے کے تحت 23 ستمبر کو پہلا ٹینڈر جاری کیا گیا، جس میں ٹی سی پی کو 4 بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے بولیاں موصول ہوئیں۔
دوسری جانب پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کی درآمد کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور درآمد کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد اور مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے ناگزیر ہے۔









