پنجاب حکومت نے منشیات کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لیے قوانین میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ نئے آرڈیننس کے تحت اب ایسے مقدمات جن میں سزا عمر قید ہو سکتی ہے، ان میں ملزمان کو ضمانت نہیں دی جا سکے گی۔
ترمیم شدہ آرڈیننس میں عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ دیگر جرائم میں ضمانت دینے سے پہلےکیس کی نوعیت اور بھاری زرِ ضمانت کو مدنظر رکھیں۔ علاوہ ازیں، خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف لاہور ہائی کورٹ کےدو رکنی بینچ کے سامنے سنی جائے گی، جس کی نامزدگی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کریں گے۔
یہ قانون وفاقی سطح پر نافذکنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز ایکٹ (CNSA) کے ساتھ متوازی طور پر نافذ ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان ترامیم کا مقصدقانونی سقم اور تاخیر کو ختم کرنا اور منشیات کے خلاف کارروائی کوزیادہ مؤثر اور فوری بنانا ہے۔
محکمہ قانون پنجاب کے مطابق ترامیم کے تحت سیکشنز 38، 39، 40، 41 اور 44 میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ کچھ پرانی دفعات کومنسوخ بھی کر دیا گیا ہے۔
سیکشن 39 میں “خصوصی عدالت کی اصطلاح شامل کر کے ضمانت کے اصول مزید سخت کیے گئے ہیں۔
سیکشن 40 کے تحت اپیلوں کا اختیار صرف ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کو دیا گیا ہے۔
سیکشن 41(2) کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔
سیکشن 44 میں الفاظ کی تبدیلی کے ذریعے عمل درآمد کولازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ ترامیم 20 ستمبر 2025 سے نافذالعمل ہو چکی ہیں۔ چونکہ اس وقت صوبائی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو رہا تھا، اس لیے گورنر پنجاب نے آئین کےآرٹیکل 128 کے تحت آرڈیننس کی منظوری دی۔
محکمہ قانون و پارلیمانی امور پنجاب کی جانب سے اس آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
پنجاب میں منشیات کیسز کے قوانین مزید سخت، عمر قید والے مقدمات میں ضمانت کی اجازت نہیں ہوگی








