بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب حکومت کا فتنہ و فساد پھیلانے والوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام، زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس میں پنجاب حکومت نے تشدد، اشتعال انگیزی اور فتنہ و فساد کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے لیے اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج کے نام پر خونریزی، ہنگامہ آرائی اور افراتفری پھیلانے والوں کے گرد آہنی شکنجہ مزید سخت کیا جائے گا۔ عمران خان کے سوشل میڈیا پر 400 لاشوں سے متعلق اشتعال انگیز اور جھوٹے بیان پر بھی پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرانے کا اعلان کیا گیا۔
پنجاب حکومت نے واضح کیا کہ کارروائی کسی مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں بلکہ اُن عناصر کے خلاف ہے جو مستقل بنیادوں پر ریاستی امن کو تہہ و بالا کرتے آئے ہیں۔ مساجد، مدارس یا مذہبی پلیٹ فارمز کو نفرت انگیزی، انتشار یا تشدد کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔
مزید برآں، مدارس کے تقدس کو مجروح کرنے اور بچوں کے ذہنوں میں نفرت یا انتہا پسندی کے بیج بونے والوں کے خلاف بھی انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ احتجاجی مظاہروں میں کیلوں والے ڈنڈوں، پٹرول بم یا کسی بھی قسم کے ہتھیار کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اجلاس میں لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صوبے بھر میں سیکشن 144 نافذ ہے، جس کی خلاف ورزی پر دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کیے جائیں گے۔
انتہا پسند جتھوں، ان کے سہولت کاروں اور حامیوں کے خلاف بھی سخت ترین اقدامات کا عندیہ دیا گیا ہے، جبکہ بازار، دکانیں یا ٹرانسپورٹ زبردستی بند کرانے والوں کے خلاف بھی دہشتگردی کی دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پنجاب حکومت نے سوشل میڈیا پر نفرت، شرانگیزی اور فتنہ انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے، ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اجلاس کے آخر میں انتہا پسند گروپوں کی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی پر مکمل پابندی عائد کرنے اور سیکیورٹی اداروں کو فوری کارروائی کے اختیارات تفویض کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔