اسلام آباد(نیوزڈیسک)حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں ایک بارپھراضافہ کردیا،پٹرول 14روپے 85 پیسے ، ڈیزل 13روپے 23پیسے مہنگا۔جمعرات کی شب وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے وزیرمملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 14روپے 85 پیسے اضافہ کیا گیا جس کے بعداس کی نئی قیمت 248روپے 74پیسے فی لیٹر ہوگئی ۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 13روپے 23پیسے بڑھائی گئی ،جس کے بعد اس کی نئی قیمت 276روپے 54پیسے ہوگئی ۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 18روپے 68پیسے اضافہ کیا گیا جس کے بعد اس کی نئی قیمت 226روپے 15پیسے فی لیٹر ہوگئی ۔اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 18روپے 83پیسے اضافہ کیا گیا جس کے بعد اس کی نئی قیمت 230روپے 26پیسے ہوگئی۔مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پٹرول پر لیوی10روپے فی لٹیر عائد کی گئی ۔اسی طرح ہائی سپیڈ اور لائٹ ڈیزل اور مٹی کےتیل پر پانچ ،پانچ روپے لیوی عائد کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ عالمی مارکیٹ میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیاتھا کہ ہرماہ پٹرولیم لیوی بڑھائیں گے ،پی ٹی آئی معاہدے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر تیس فیصد لیوی عائد ہونا تھی، ہم نے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان حکومت جو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرکے گئی تھی ہم نے اسی کو بحال کیا آئی ایم ایف کے ساتھ مثبت بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی مدت تین سال سے بڑھا کرچارسال کردی ہے اسی طرح قرض پروگرام کی رقم چھ ارب سے بڑھ کر سات ارب ڈالرہوگئی ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ تمام سیکٹرزکو سیلزاورانکم ٹیکس کے ریفنڈاداکردیئے ۔اس موقع پر مصدق ملک نے کہاکہ حالات کو بہتر ہونے میں چار سے پانچ ماہ لگیں گے۔
یاد رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر آ کر وفاقی حکومت نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے آئندہ مالی سال میں مرحلہ وار بنیادوں پر پٹرولیم لیوی ٹیکس میں 50 روپے اضافے کی ایوان سے منظوری مانگی، ایوان نے پٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی ترمیم منظورکرلی تھی۔
گزشتہ روز فنانس بل میں پٹرولیم لیوی کی منظوری لی تھی، یکم جولائی 2021 سے 30 جون 2022ء کے دوران پٹرول لیوی 750 کی بجائے 855 ارب روپے جمع کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت نے اپریل میں اقتدار سنھبالا تو پہلے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی طرف سے دباؤ کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا، تاہم عالمی ادارے کی طرف سے قرض پروگرام بحال نہ کرنے کی دھمکی کے بعد وفاقی حکومت نے 26 مئی کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پٹرول 179 روپے 86 پیسے، ڈیزل 174 روپے 15 پیسے، مٹی کا تیل 155 روپے 56 روپے اور لائٹ ڈیزل 148 روپے 31 پیسے کا ہو گیا تھا۔
واضح رہے کہ 2 جون کو 2 جون کو حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر 30 روپے اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پٹرول کی قیمت 209 روپے 86 پیسے ہو گئی تھی، ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے ہوگئی تھی، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بڑھا کر 178 روپے 31 پیسے فی لٹر، مٹی کا تیل 181روپے 94پیسے ہو گئی تھی۔
اسی طرح 15 جون کو مسلسل تیسری بار حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ پٹرول کی فی لٹر قیمت میں 24 روپے 3 پیسے، ڈیزل کی قیمت میں 59 روپے ، مٹی کے تیل کی قیمت 29.49 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد پٹرول کی قیمت 233 روپے 89 پیسے، ڈیزل کی قیمت 263 روپے 31 پیسے روپے ہو گئی تھی۔ مٹی کے تیل کی قیمت 211.43 روپے ہو گئی تھی۔









