اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جرمنی میں تعینات یوکرین کے سفیر نے ان جرمن دانشوروں کیخلاف ناشائستہ زبان استعمال کی ہے جنہوں نے عالمی رہنمائوں کو مشورہ دیا تھا کہ یوکرین کو اسلحہ اور ہتھیاروں کی فراہمی بند کی جائے اور یوکرین کو چاہئے کہ وہ جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔ یوکرینی سفیر آندرے میلنک نے جرمن دانشوروں سے کہا کہ یہ لوگ جعلی دانشور ہیں، یہ لوگ بھاڑ میں جائیں۔ یوکرین سفیر کے لب و لجہے کی سختی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جرمن دانشوروں کی جانب سے لکھے گئے خط پر دستخط کرنے والے کچھ افراد کا نام لے کر انہیں مخاطب کیا اور کہا وہ اپنے شکست خوردہ مشورے اپنے پاس رکھیں۔ جرمن دانشوروں کا یہ خط جرمن اخبار میں شائع ہوا تھا جس میں 21؍ صحافیوں، فلسفیوں، صحافیوں، فنکاروں اور سابق سفارت کاروں نے یوکرین سے اپیل کی تھی کہ وہ مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کا راستہ تلاش کرے۔ خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ یہ یورپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنائے، اس مقصد کے حصول کیلئے یورپی ملکوں کو چاہئے کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے دشمنی کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ خط میں دانشوروں کا کہنا ہے کہ جتنی زیادہ جنگ آگے بڑھے گی اتنا ہی اسے ختم کرنا مشکل ہوتا جائے گا، غالب امکان ہے کہ یوکرین ڈونٹیسک اور لوگانسک ریجن اور کریمیا کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر پائے گا۔
’’بھاڑ میں جاؤ،‘‘ یوکرینی سفیر مذاکرات کا مشورہ دینے والے جرمن دانشوروں پر برس پڑے








