امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا کے صدرگستاوو پیٹرو پر انتہائی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیںغیرقانونی منشیات کی اسمگلنگ کا رہنما قرار دے دیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ صدر پیٹرو منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کی کھلی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کولمبیا میں آج منشیات کا دھندہ سب سے بڑا کاروبار بن چکا ہے، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صدر پیٹرو اس کاروبار کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ کولمبیا میں پیدا کی جانے والی منشیات کا بڑا حصہ امریکا اسمگل کیا جاتا ہے، جہاں یہ ہزاروں امریکی شہریوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح انداز میں خبردار کیا کہ اگر کولمبیا نے فوری طور پر منشیات کی پیداوار بند نہ کی، تو امریکا خود اس کا بندوبست کرے گا — اور یہ اقدام خوشگوار طریقے سے نہیں ہوگا۔
سیاسی تناؤ میں اضافہ:
ٹرمپ کے ان بیانات کو سیاسی مبصرین نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کا باعث قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات نہ صرف کولمبیا کی حکومت کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ خطے میں انسداد منشیات کی عالمی کوششوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
صدر پیٹرو کی جانب سے تاحال ٹرمپ کے الزامات کا باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم کولمبیا کی حکومت پہلے بھی ایسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتی رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے کولمبیا کے صدر پر سنگین الزامات،منشیات اسمگلنگ کے سرغنہ قرار








