بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سینئر گائناکالوجسٹ اور پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کو عالمی ادارہ فیڈریشن آف گائناکالوجی اینڈ آبسٹیٹرکس (فیگو) کی ٹرسٹی منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والی وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں، جس پر پورا ملک فخر محسوس کر رہا ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اپنے اس اہم عہدے کی اہمیت اور فیگو کے انتخابات کے عمل کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایوارڈ طبی شعبے میں ان کی نمایاں خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ وہ اسے صرف اپنی کامیابی نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان کی میڈیکل کمیونٹی کے لیے بھی بڑا اعزاز سمجھتی ہیں۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے بتایا کہ فیگو کا قیام 1954 میں جنیوا میں ہوا تھا، اور یہ دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے جو گائناکالوجی اور زچگی کے مسائل پر کام کرتی ہے۔ فیگو کی جنرل اسمبلی میں 142 ممالک کی نمائندگی ہوتی ہے، اور صرف 10 نمایاں شخصیات کو ٹرسٹی منتخب کیا جاتا ہے۔ پاکستان تقریباً 82 سال بعد پہلی بار اس موقع پر پہنچا ہے جہاں اس کا کوئی نمائندہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوا ہے۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اس موقع پر پاکستان میں دورانِ زچگی خواتین کی اموات کے بلند تناسب کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ وہ اس عالمی پلیٹ فارم کا بھرپور استعمال کر کے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کی پوری کوشش کریں گی۔
پاکستان کی پہلی خاتون ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ’فیگو‘ کی ٹرسٹی منتخب








