بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بلٹ پروف گاڑیاں کس نے مانگیں؟ خیبر پختونخوا پولیس کو دی گئی گاڑیوں کی اصل کہانی سامنے آگئی

خیبر پختونخوا پولیس کو دی گئی بلٹ پروف گاڑیوں کے معاملے کی اندرونی کہانی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ ایک اہم اجلاس میں کیا گیا تھا، جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی تھی۔
اس اجلاس میں پولیس اور ایف سی (فرنٹیئر کانسٹیبلری) کے حکام نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ خیبر پختونخوا، خصوصاً جنوبی اضلاع میں تعینات افسران کو دہشت گردی کے شدید خطرات لاحق ہیں، لہٰذا ان کی حفاظت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں ناگزیر ہیں۔ اس پر محسن نقوی نے یقین دہانی کرائی کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے اداروں کو تحفظ دیا جائے گا اور انہیں درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف سی نے جنوبی اضلاع کے لیے 10 بلٹ پروف گاڑیوں کی درخواست کی تھی۔ ابتدائی طور پر خیبر پختونخوا پولیس کو 3 اور ایف سی کو 2 گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ آپریشنل علاقوں میں تعینات افسران و اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
تاہم، معاملہ اس وقت تنازع کا شکار ہوا جب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ان بلٹ پروف گاڑیوں کوناکارہ قرار دے دیا۔ انہوں نے نہ صرف ان گاڑیوں کو کے پی پولیس کی تضحیک قرار دیا بلکہ فوری طور پر انہیں وفاق کو واپس کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
اس تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت یہ گاڑیاں واپس کر رہی ہے، تو بلوچستان حکومت ان کے حصول کی خواہشمند ہے، کیونکہ ہم بھی دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ ہیں۔
اس پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا:ٹھیک ہے، اگر کے پی حکومت کو گاڑیاں نہیں چاہئیں تو یہ بلوچستان حکومت کو دے دی جائیں گی۔