بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کا نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے نہ ملنے کا فیصلہ، شرکا اور بلوچستان حکومت کا اظہارِ افسوس

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 17ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے ملاقات سے معذرت کرلی، جس پر شرکا اور بلوچستان کے حکام کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
ورکشاپ میں شریک افراد کے مطابق، نہ صرف وزیراعلیٰ کے پی نے ملاقات سے گریز کیا بلکہ پشاور میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کسی رکن اسمبلی — نہ ایم پی اے اور نہ ایم این اے — نے بھی ورکشاپ کے شرکا کو خوش آمدید نہیں کہا۔
اس کے علاوہ، شرکا کو دیے جانے والے کھانے بھی صرف پیکٹس کی صورت میں پیش کیے گئے، جسے غیر روایتی اور بےرخی پر مبنی رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے سینیئر وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شرکا سے نہ ملنا نہ صرف روایات بلکہ مہمان نوازی کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے کہا:پشتون، بلوچ اور اسلامی روایات ہمیں سکھاتی ہیں کہ مہمان کا دل سے استقبال کیا جائے۔ ہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بلوچستان آنے کی دعوت دیتے ہیں، تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ ہم کس طرح مہمان نوازی کرتے ہیں — نہ صرف کھانے کے لیے دستر خوان بچھاتے ہیں بلکہ عزت بھی دیتے ہیں۔
کھیتران نے آرمی چیف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان بھر سے آئے ورکشاپ شرکا کے لیے پانچ گھنٹے نکالے، ایسے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مصروفیت کیا اس سے زیادہ تھی؟
اختتام پر انہوں نے کہا:ہم پیکٹ والا کھانا نہیں کھائیں گے، کیونکہ یہ صرف کھانے کا معاملہ نہیں بلکہ عزت اور احترام کا ہے۔ ہم بطور احتجاج کھانے سے انکار کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک ورکشاپ کے ماحول کو متاثر کر گیا بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان روایتی مہمان نوازی کے حوالے سے ایک حساس بحث کو بھی جنم دے گیا ہے۔