بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

”فیصلہ بظاہر آپ کے حق میں ہوا ہے “ سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلا ف درخواست پر سماعت جاری

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق درخواستوں کو منظور کرنے کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت شروع ہو چکی ہے جس دوران پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ کے دوبارہ انتخابی عمل کیلئے سات دن کا وقت مانگ لیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کر رہاہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال مندو خیل شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کی طرف سے بابراعوان نے دلائل کا آغاز کر دیاہے ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں ؟ بابراعوان نے جواب دیا کہ میں درخواستگزار سبطین خان کا وکیل ہوں ۔

بابراعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اپریل میں وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہوا جس میں لڑائی ہوئی ، جس کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا تھا ، ایک جج نے اختلافی نوٹ لکھا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے کہا کہ اگر دوبارہ گنتی سے 186 ووٹ نہیں بنتے تو ری پول ہو گا، اتفاق نہیں کرتا کہ کوئی ممبر موجود نہیں تو انتظار کر کے ووٹنگ کروائی جائے ، ممبران موجود ہوتے ہیں، اسمبلی ہال میں ہوں یا چیمبرز میں ، ان کے ووٹ شمار ہو تے ہیں، آپ صرف بتائیں کہ ووٹنگ کیلئے کم وقت دینے کی درخواست پر کیا دلیل ہے ۔

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بظاہر آپ کے حق میں ہواہے ، آپ بتائیں آپ کے حق میں فیصلہ ہوا یا نہیں ، آپ اپنی درخواست کی بنیاد بتائیں ، کس بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے حکم میں مداخلت کریں ۔

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بظاہر آپ کے حق میں ہواہے ، آپ بتائیں آپ کے حق میںفیصلہ ہوا یا نہیں ، آپ اپنی درخواست کی بنیاد بتائیں ، کس بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے حکم میں مداخلت کریں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لمبے عرصے تک صوبہ بغیر وزیراعلیٰ نہیں رہ سکتا ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر وزیراعلیٰ کسی وجہ سے دستیاب نہ ہو تو صوبہ کون چلائے گا ؟ بابراعوان نے جواب دیا کہ میری نظر میں موجودہ حالات میں سابق وزیراعلیٰ بحال ہو جائیں گے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ بیمار ہو جائے یا باہر جائے تو کون صوبہ چلاتاہے ، بابراعوان نے کہا کہ سینئر وزیر کو وزارت اعلیٰ کا چارج دیا جاتاہے ، کابینہ نہیں ہو گی تو سینئر وزیر کہاں سے آئے گا ، بابراعوان نے کہا کہ دوسری صورت میں نگران وزیراعلیٰ بنایا جا سکتا ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سابق وزیراعلیٰ کے دوبارہ آنے کی کوئی صورت نہیں ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال صرف یہ ہے کہ آج چار بجے اجلاس ہونا ہے یا نہیں ، اجلاس نہ ہونے پر فائل کریں پھر دیکھیں گے کہ آج نہیں تو کب ہو سکتا ہے ،

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ملک کے اندرموجودارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیاآپ کل ووٹنگ پرتیارہیں؟پی ٹی آئی نے عدالت سے دوبارہ انتخابی عمل کیلئے 7 دن کا وقت مانگ لیاجس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 7 دن کا وقت دینا مناسب نہیں ہے ، بابراعوان نے کہا کہ ہماری استدعاہے زیادہ سے زیادہ ممبران کوووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں یہ بات نہیں،آپ کی درخواست پڑھ کرآئے ہیں، بنیادی طورپرآپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا۔