بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عوامی فلاح کے منصوبوں کی تعمیر کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں،وزیراعظم

اسلام آباد(ممتاز نیوز )وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میٹرو (اورنج لائن، بلیو لائن، گرین لائن) پر پیش رفت اور اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیرِ اعظم کے مشیر احد چیمہ، طارق فضل چوہدری، حنیف عباسی، انجم عقیل خان، چیئرمین سی ڈی اے اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کی 29 کلومیٹر طویل اورنج لائن میٹرو بس سروس کو این ایچ اے اسٹیشن کی بجائے فیض احمد فیض اسٹیشن سے جوڑ دیا گیا ہے.

جس سے مسافروں کی رش کے اوقات میں تعداد بڑھ کر دو سے تین ہزار اور یومیہ اوسط 18 ہزار تک پہنچ گئی ہے. جبکہ 20 کلومیٹر طویل بلیو لائن میٹرو بس سروس (کورال تا پمز اسپتال) بھی افتتاح کیلئے تیار ہے. 13 اسٹیشنز پر مشتمل یہ روٹ اسلام آباد ایکپریس وے کے اطراف میں مسافروں کی بڑی تعداد کو معیاری اور کم قیمت سفری سہولیات فراہم کرے گا،اجلاس کو 15.5 کلومیٹر طویل گرین لائن میٹرو بس سروس کے حوالے سے بتایا گیا کہ بارہ کہو تا پمز اسپتال میٹرو بس بارہ کہو سے آنے والے مسافروں اور اسلام آباد سے مری جانے والے سیاحوں کو سہولت فراہم کرے گی. اسکے علاوہ ائیر پورٹ سے اورنج لائن کے ذریعے آنے والے سیاہ بھی مری کیلئے ترانسپورٹ تک پہنچنے کیلئے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے.اجلاس کو بارہ کہو بائی پاس منصوبے پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا.

وزیرِ اعظم نے منصوبے کی تعمیر کے دوران جنگلات کے تحفظ اور منصوبے میں شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ راول چوک فلائی اوور وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایت ہر 31 جولائی تک مکمل کر لیا جائے گا جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے کی بحالی اور اسے وسیع کرنے کے منصوبے کا آغاز بھی جلد کر لیا جائے گا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اورنج لائن میٹرو بس ( فیض احمد فیض ٹرمینل H-9 تا ائیر پورٹ) کے اطراف لینڈ اسکیپنگ مکمل کرنے کی ہدایت کردی،سات دن کے اندر لینڈ اسکیپنگ کا کام مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے،

میٹرو بس کے کرایوں کو کم کرکے عوام کی سہولت کیلئے ایک مربوط نظام قائم کیا جائے،وزیرِ اعظم نےبارہ کہو بائی پاس پر بھی کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے کی ہدایت کردی،منصوبے میں شفاف طریقے سے بِڈنگ (Bidding) یقینی بنائی جائےبِڈنگ (Bidding) کے دوران بہترین کمپنیوں کو منصوبے کی تعمیر کا کنٹریکٹ دیا جائے،وزیراعظم نےکہاکہ منصوبوں کی تعمیر کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں،بارہ کہو میں ٹریفک کے مسائل کے باعث مقامی لوگوں کی مشکلات کا تدارک ضروری ہے،بائی پاس سے مری جانے والے سیاحوں کیلئے بھی آسانی پیدا ہوگی،وزیرِ اعظم نے منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔