پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اس حوالے سے دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، یہ بات نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پولینڈ کے وزیرِ خارجہ کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کیا اور بتایا کہ پولش وزیرِ خارجہ نے اپنا پہلا دورہ پاکستان 2011 میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران پولش شہری کوئٹہ اور کراچی میں مقیم رہے، جو دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کی علامت ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ آج پولینڈ کی معیشت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر بات چیت ہوئی ہے، جس میں خاص طور پر کان کنی اور تعمیراتی صنعت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے فتنۃ خوارج کے حملوں پر اپنے تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔
انہوں نے تاریخی تعلقات کو یادگار بنانے پر پولینڈ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے تھنک ٹینکس کے درمیان تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پولینڈ کے وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اس وقت تقریباً دو ہزار پاکستانی پولینڈ میں مقیم ہیں اور وہاں کی جامعات پاکستانی طلباء میں کافی مقبول ہیں۔ انہوں نے پولینڈ کے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف سخت قوانین کا ذکر کیا اور کہا کہ انسانی اسمگلر پولینڈ کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تاہم پولینڈ کی سرحد اب یورپی یونین کی محفوظ ترین سرحدوں میں شمار ہوتی ہے۔
پولش وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سردیوں میں لوگوں کو سرحد عبور کرنے سے روکا جاتا ہے تاکہ جانوں کے نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ روس یورپ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، جبکہ پولینڈ غزہ میں امن کے قیام کے لیے بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
آخر میں پولش وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پولینڈ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے قریب ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا پولینڈ کے وزیرِ خارجہ کا پاکستان آمد پر خیرمقدم








