پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ کو 15 دن کے اندر جمع کرانا لازمی ہوگا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت صوبے کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے ایک نیا اقدام شروع کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سینٹرل پولیس آفس میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، اسپیشل سیکریٹری ہوم فضل الرحمن اور ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے شرکت کی۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ یہ مہم پنجاب سرنڈر آف اللیگل آرمز ایکٹ 2025 کے تحت شروع کی جارہی ہے، جس کے مطابق تمام غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے شہریوں کو 15 دن کے اندر اپنے ہتھیار متعلقہ مراکز پر جمع کرانے ہوں گے۔ اس مہم کا مقصد صوبے میں “ڈالا کلچر” کا خاتمہ اور لائسنس یافتہ اسلحہ کی دوبارہ جانچ پڑتال کرنا ہے۔ اس ضمن میں 10 لاکھ سے زائد لائسنس یافتہ ہتھیاروں کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، خاص طور پر ان افراد کے خلاف جو ذاتی دشمنیوں یا حفاظت کے بہانے غیر قانونی ہتھیار رکھتے ہیں۔ تمام شہریوں کو یہ پابندی ہوگی کہ وہ اپنے ہتھیار مقررہ مدت میں جمع کرائیں۔
سی سی ڈی اور متعلقہ تھانوں کے ذریعے اسلحہ جمع کرنے کے عمل کی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، صوبے کی بارڈر چیک پوسٹوں پر اسلحہ کی تلاش کے لیے جدید سکینرز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔
سپیشل سیکریٹری ہوم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو 4 سے 14 سال تک کی سزا اور 10 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔
یہ اقدامات پنجاب میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہیں اور غیر قانونی اسلحہ کے استعمال کو روکنے میں مدد فراہم کریں گے۔









