بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکہ کے پاکستان میں نامزدسفیر ڈونلڈ بلوم نے اپنی اسناد صدر مملکت عارف علوی کوپیش کردیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )امریکہ کے پاکستان میںنامزدسفیر ڈونلڈ بلوم نے اپنی اسناد صدر مملکت عارف علوی کوپیش کردیں۔صدر مملکت کا تعلق عمران خان کی اقتدار سے نکال باہر کی جانے والی جماعت پی ٹی آئی سے ہے اور وہ سفیر سے اسناد کی وصولی کا وقت دینے سے گریزاں تھے۔ ڈونلڈ بلوم چار سال بعد تعینات ہونے والے کل وقتی امریکی سفیر ہیں۔ ان سے قبل امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل تھے جو 30؍ اگست 2018ء کو عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔

ڈونلڈ بلوم کا تعلق بھی امریکی محکمہ خارجہ سے ہے لیکن ڈیوڈ ہیل کے مقابلے میں وہ جونیئر سفارت کار ہیں۔

ذرائع نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے ڈونلڈ بلوم کی تعیناتی پر ان وجوہات کی بنا پر تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ ڈونلڈ بلوم اُس وقت عراق میں امریکی سفیر تھے جب امریکا نے عراق پر حملہ کیا تھا۔

دفتر خارجہ بشمول دیگر حکام نے ان تحفظات کو غیر اہم سمجھتے ہوئے انہیں نظر انداز کر دیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ڈونلڈ بلوم اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے درمیان ہونے والی غیر رسمی ملاقات پر اعتراض کیا تھا کہ ڈونلڈ بلوم کو اسلام آباد آئے دو ہفتے ہی ہوئے ہیں اور یہ ملاقات سفارت آداب کے خلاف ہے کیونکہ بلوم نے اپنی سفارتی اسناد صدر مملکت کو پیش نہیں کیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دفتر خارجہ نے امریکی سفیر کو دستاویزات پیش کرنے کے معاملے میں ہر ممکن معاونت فراہم کی اور اس کے بعد ہی امریکی سفیر نے اہم مقامات کا دورہ اور شخصیات سے ملاقاتیں کیں، ان میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کا دورہ بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق، صدر عارف کو بتایا گیا ہے کہ سفارتی اسناد کے پیش کیے جانے کے معاملے میں مزید تاخیر نہیں ہو سکتی بصورت دیگر حکومت کو متبادل راستے دیکھنا ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق انتباہ کام کرگیا اور اب ایوان صدر تقریب کی تاریخ دے دی ہے ۔

دوسری طرف پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے صدر علوی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے نئے امریکی سفیر کی اسناد کے حوالے سے معمول کے مطابق کام کیا ہے اور ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ انہوں نے پیس و پیش سے کام لیا ہو۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ بلوم اپنی سفارتی اسناد پیش کرنے کے تین دن بعد چار جولائی کو اپنے ملک کا 246واں یوم آزادی اور اس سے جڑی تقریبات منعقد اور ان میں شرکت کر سکیں گے۔