امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملائیشیا کے دورے کے دوران قطر کے دوحہ میں امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی سے طیارے میں ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے قطر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ “ہم نے مشرق وسطیٰ میں ناقابلِ یقین امن قائم کیا ہے اور قطر نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔”
صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے مثبت نتائج کی توقع رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ چین مزید ٹیرف سے بچنے کے لیے معاہدے پر راضی ہو جائے گا۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جلد ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر قطر غزہ میں امن فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے حماس سے بھی مطالبہ کیا کہ یرغمالیوں کی لاشیں فوری طور پر واپس کی جائیں، بصورت دیگر امن معاہدے کے شریک ممالک کارروائی کریں گے۔ امریکا اگلے 48 گھنٹوں میں صورتحال پر گہری نظر رکھے گا۔
صدر ٹرمپ کے ایشیا دورے کا مقصد چین، جنوبی کوریا اور جاپان کے سربراہان سے ملاقاتیں کرنا اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے تجارتی و علاقائی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کرنا بھی شامل ہے۔









