وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم (TRACS) کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ نظام سندھ میں ڈیجیٹل شفافیت، جدیدیت اور عوامی سہولت کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ TRACS صرف ایک ٹیکنالوجیکل اپ گریڈ نہیں بلکہ شفاف حکمرانی، انصاف اور عوامی خدمت کی علامت ہے۔ ان کے مطابق، جدید ای-ٹکٹنگ سسٹم کے ذریعے انسانی مداخلت کم ہوگی اور ٹریفک خلاف ورزیاں اب جدید کیمروں کے ذریعے خودکار طور پر ریکارڈ کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ “آج کے دور میں حکمرانی کو ہوشیار، مؤثر اور جواب دہ ہونا چاہیے۔ سندھ ایک بار پھر فخر سے سب سے آگے ہے، TRACS کے ذریعے شہریوں کی بہتر خدمت اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر اس نظام کا آغاز کراچی سے کیا گیا ہے جہاں 200 کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ منصوبے کے تحت یہ تعداد 12 ہزار تک بڑھائی جائے گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ TRACS کو مرحلہ وار پورے سندھ میں توسیع دی جائے گی۔ شہریوں کی سہولت کے لیے TRACS مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں لوگ ای-ٹکٹ کی وضاحت یا اپیل کے لیے رجوع کر سکیں گے۔ احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے سِٹیزن-پولیس لائیزن کمیٹی (CPLC) کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وزیرداخلہ ضیاء الحسن لنجار، آئی جی پولیس، ایکسائز، ٹرانسپورٹ، قانون اور محکمہ داخلہ کے افسران کو ان کی کاوشوں پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 1965 کے موٹر وہیکل آرڈیننس میں کی گئی ترامیم عوامی مفاد میں اہم قانون سازی ہے، اور یہ نظام سندھ کی سڑکوں کو محفوظ بنانے میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
مراد علی شاہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہاTRACS صرف پولیس کا نہیں بلکہ ہر شہری کی سہولت اور حفاظت کے لیے ایک اصلاحی قدم ہے۔ یہ سندھ میں شفاف حکمرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کی علامت ہے۔ فخر کے ساتھ ہم تبدیلی کے اس سفر کا آغاز اپنے شہر کراچی سے کر رہے ہیں، اور پُرعزم ہیں کہ جلد اس کے ثمرات سندھ کے ہر شہر اور قصبے تک پہنچیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم (TRACS) کا افتتاح — سندھ میں ڈیجیٹل شفافیت کی نئی مثال








