بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

راولپنڈی: توہین ازواج مطہرات کیس میں ہائی کورٹ نے ملزمہ کو بری کر دیا

راولپنڈی کی ہائی کورٹ نے توہین ازواج مطہرات کے مشہور کیس میں ملزمہ انیقہ عتیق کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے ججز صداقت علی خان اور وحید خان نے مختصر فیصلے میں کہا کہ ملزمہ کی سزا تکنیکی بنیادوں پر کالعدم قرار دی جاتی ہے، کیونکہ اس کیس میں کئی اہم شواہد حاصل نہیں کیے گئے تھے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ:
ملزمہ کے موبائل فون کا فرانزک نہیں کرایا گیا، اور یہ بھی واضح نہیں کہ موبائل واقعی ملزمہ کی ملکیت تھا یا نہیں۔
مدعی حسنات فاروق کے موبائل کا فرانزک بھی نہیں کیا گیا۔
ملزمہ اور مدعی کے درمیان کوئی رشتہ یا قانونی تعلق ثابت نہیں ہوا، کیونکہ ملزمہ نامحرم تھی۔
ملزمہ کے وکیل ذوالفقار ملوکہ نے کہا کہ مقدمہ جھوٹا اور خود ساختہ تھا اور خاتون کو پھنسانے کے لیے بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزمہ کے خلاف واٹس ایپ پر بھی کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔
فیصلے کے بعد مدعی کے وکیل نے کہا کہ مدعی اور ملزمہ پب جی گیم کھیلتے دوست بنے تھے، اور عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
یہ مقدمہ 2020ء میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے درج کیا تھا، اور ابتدائی طور پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے 2022ء میں ملزمہ کو سزائے موت اور پراپرٹی ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔ ملزمہ پچھلے تین سال سے اڈیالہ جیل کی کال کوٹھڑی میں قید تھی۔
اس فیصلے کے بعد عدالت نے قانونی تقاضوں اور ثبوتوں کی کمی کو بنیاد بنا کر انصاف کو یقینی بنایا اور ملزمہ کو بری کر دیا۔