وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں 6 لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ اتائی ڈاکٹر موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 40 فیصد کراچی میں ہیں۔
ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز اور روک تھام کے لیے منعقدہ اجلاس میں صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز نے آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر صحت کو بتایا گیا کہ سندھ میں 3995 رجسٹرڈ بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز ہیں، جن میں لاڑکانہ میں 1144، شکارپور میں 509، شہید بے نظیرآباد میں 256، میرپورخاص میں 228 اور دیگر اضلاع میں متعدد کیسز شامل ہیں۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایچ آئی وی کے بڑھنے کی اہم وجوہات میں اتائی ڈاکٹرز، غیر قانونی کلینک، غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس، حجاموں کے استعمال شدہ بلیڈز، سرنجز کی دوبارہ پیکنگ، اور اسپتالوں کے فضلہ کی فروخت شامل ہیں۔
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے واضح کیا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل ہوگا اور کوئی سفارش منظور نہیں ہوگی۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن، پولیس اور ڈپٹی کمشنرز اتائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی ایم این اے یا ایم پی اے کی طرف سے سفارش آئے تو وہ خود اس کا ازالہ کریں گی۔ غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس کو فوری بند کیا جائے گا اور لائسنس یافتہ مراکز کی فہرست فراہم کی جائے گی۔
وزیر صحت نے زور دیا کہ پولیس، ایڈمنسٹریشن، صحت کے اداروں اور سی بی اوز پر مشتمل مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ایچ آئی وی کی وباء کو روکا جا سکتا ہے، اور حکومت عوام کی صحت سے کھیلنے کی ہر کوشش کو ناکام بنائے گی۔









