وزیراعظم شہباز شریف نے ریاض میں منعقدہ فیچر انیشیٹو انویسٹمنٹ کانفرنس میں کہا کہ مسلسل قرضوں کا بوجھ ملکی معیشت کو کمزور کرتا ہے اور انسانیت کو درست سمت میں آگے بڑھانے کے لیے برابری اور تعاون لازمی ہے۔
انہوں نے مباحثے کے دوران کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ہم اپنی سابقہ غلطیوں سے سیکھ کر ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کے ترقیاتی وژن کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں بھی مختلف شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں، اور ایف بی آر کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے سے کرپشن میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
وزیراعظم نے ملک کی نوجوان آبادی اور موسمیاتی چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی، کہا کہ پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہیں، اور حالیہ قدرتی آفات سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس کے لیے بحالی کے عمل کے لیے مزید فنڈز کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مسلسل قرضوں سے معیشت کمزور ہوتی ہے، اور آگے بڑھنے کے لیے ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے زرعی شعبے میں اے آئی (Artificial Intelligence) کے استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سے جدت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔









